سبک روی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تیزرفتاری، برق رفتاری۔  مسافروں میں تذکرہ کیا جمیل اپنی سبک روی کا نہ ہم نے رستے میں گرد اڑائی نہ کوئی نقش قدم بنایا      ( ١٩٥٤ء، فکر جمیل، ٦٧ ) ٢ - نرم رفتاری، اعتدال کی چال، احتیاط و اعتدال۔ "یہ کام غالب کے تعلق سے ہے اس لیے بھی آسانی اور سبک روی سے کیا گیا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ١٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ مرکب 'سبک رو' کے 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٨٢ء سے "صابر دہلوی، ریاض صابر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نرم رفتاری، اعتدال کی چال، احتیاط و اعتدال۔ "یہ کام غالب کے تعلق سے ہے اس لیے بھی آسانی اور سبک روی سے کیا گیا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ١٧ )

جنس: مؤنث